نیویارک،یکم اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق حسینۂ عالم آلیسیا ماچالو کی جانب سے تنقید پر ان کے لیے 'قابل نفرت' لفظ کا استعمال کیا ہے۔آلیسیا ماچالو نے سنہ 1996میں مس یونیورس کا خطاب جیتا تھا اور انھوں نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو 'جنسی' اور 'خواتین مخالف' تبصرہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹرمپ آلیسیا ماچالو کے تبصرے سے اس قدر برہم ہوئے کہ انھوں نے ان کے خلاف کئی ٹویٹ کر ڈالی۔ردعمل کے طور پر ٹرمپ نے امریکی لوگوں سے آلیسیا ماچالو کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی مبینہ'جنسی ٹیپ' کو تلاش کرنے کے لیے بھی کہہ دیا۔ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی اپنی حریف صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کو بھی نہیں بخشا اور کہا انہوں نے ہی وینیزویلا میں پیدا ہونے والی آلیسیا ماچالو کے لیے امریکی شہریت حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔
ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ بے ایمان ہلیری نے قابل نفرت آلیسیا ماچالو کو امریکی شہریت دلانے میں مدد کی تھی تاکہ وہ انھیں بحث کے دوران استعمال کر سکیں۔ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے ٹویٹ کیا: 'یہ پاگل پن ہے، ٹرمپ کے لیے بھی۔واضح رہے کہ آلیسیا ماچالو نے کہا تھا کہ ان کا تھوڑا وزن بڑھ جانے کے بعد ٹرمپ نے انھیں 'مس پگی کہہ کر پکارا تھا۔1996میں مس یونیورس کا مقابلہ حسن ٹرمپ نے ہی منعقد کروایا تھا۔آلیسیا ماچالو نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ نے ان کے لاطینی نژاد ہونے کی وجہ سے انھیں ’’مس ہاؤس کیپنگ‘‘بھی کہا تھا۔ہلیری کلنٹن نے گذشتہ دنوں پہلے صدارتی مبحاثے کے دوران آلیسیا ماچالو کی انھیں باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا تھا کہ خواتین کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ کس طرح کا ہوتا ہے۔